اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ارکان صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسمبلی اسپیکر کی اجازت لازمی قرار دینے سے متعلق اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پولیس کے صوبائی سربراہ کو بھیجے گئے خط کو شیئر کرتے ہوئے اس طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔
یہ خط خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے مجوزہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری کے ایک روز بعد جاری کیا گیا تھا۔ مجوزہ قانون ابھی صوبائی اسمبلی سے منظور ہونا باقی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کسی رکن صوبائی اسمبلی کو فوجداری مقدمے میں گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے قبل متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو اسمبلی اسپیکر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور مجوزہ کارروائی کی وجوہات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
محسن نقوی نے اس شق پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی رکن صوبائی اسمبلی سنگین فوجداری جرم میں ملوث ہو تو کیا پولیس کو گرفتاری سے پہلے بھی اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرنا ہوگا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ارکان اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مقررہ طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
وفاقی حکومت کے بعض حکام نے مجوزہ قانون کے ان پہلوؤں پر بھی اعتراض کیا ہے جو پولیس کے کمانڈ اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔