تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف آزادی صحافت کا مقدمہ، 3 بڑے خبر رساں ادارے میدان میں آگئے

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی حدود میں ایم ایس ناؤ، سی این این اور پولیٹیکو کے داخلے پر پابندی کے اعلان کے بعد تینوں خبر رساں اداروں نے اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

تینوں میڈیا اداروں نے بتایا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔ کیس میں ہنگامی سماعت رواں ہفتے ہی ہوسکتی ہے۔

تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہاکہ وائٹ ہاؤس نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے ان کے صحافیوں کے اجازت نامے منسوخ کردیے، کیونکہ انتظامیہ کو ان کی رپورٹنگ پر اعتراض تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر اس اقدام کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ آزادیٔ صحافت اور عوام کے اس حق کے لیے خطرہ بن جائے گا کہ وہ حکومتی مداخلت سے آزاد اور خودمختار صحافت تک رسائی حاصل کرسکیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مقدمے کا مقصد ان کے آئینی حقوق کا تحفظ اور اس اصول کا دفاع کرنا ہے کہ حکومت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ میڈیا کیا رپورٹ کرے گا یا کیا شائع کرےگا۔

وائٹ ہاؤس کے نمائندوں نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقدمے کے اعلان کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں وائٹ ہاؤس کی پابندی کا دفاع کیا۔ انہوں نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے خبر رساں اداروں کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ وائٹ ہاؤس آزاد صحافت پر حملہ نہیں کررہا، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ جعلی خبروں کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو ’بدعنوان، دانستہ، وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا، مکمل طور پر مربوط اور قابو سے باہر‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم روایتی تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔

انتظامیہ نے متعدد بڑے خبر رساں اداروں کو صدر تک حاصل رسائی سے محروم کیا ہے، جبکہ ایسے نئے میڈیا اداروں کو اہمیت دی ہے جنہیں انتظامیہ کے لیے زیادہ ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ خبر رساں اداروں کے خلاف متعدد مقدمات بھی دائر کرچکے ہیں۔

ہفتے کے روز تینوں اداروں نے بتایا تھا کہ ان کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور ان کے پریس اجازت نامے بھی ضبط کرلیے گئے۔

یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل سوشل میڈیا پر پابندی کے اعلان اور دیگر میڈیا اداروں کو بھی روکنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

بعدازاں اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنی کارروائی سے متعلق بات کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مزید کن خبر رساں اداروں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو جعلی خبریں قرار دیا، تاہم کہا کہ ان اداروں کو ابھی وائٹ ہاؤس سے نہیں نکالا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس، وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن اور دیگر اداروں نے ٹرمپ کی پابندی پر تنقید کی ہے۔

ان اداروں نے امریکی آئین میں دیے گئے آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں کو فوری طور پر دوبارہ رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی گزشتہ سال اپنا مقدمہ دائر کیا تھا، جب اسے رائٹرز کے ساتھ صدر کی روزمرہ سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے گروپ سے خارج کردیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.