تازہ ترین

عرب جماعتوں کی حمایت سے گادی آئزن کوٹ کو 67 ارکان کی تائید، نیتن یاہو مشکلات سے دوچار

0

تل ابیب: اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو پارلیمان کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، جس کے بعد وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے جمعرات کو پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ اتوار کو کسی ایک رکن پارلیمنٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کا باضابطہ مینڈیٹ دیں گے۔

صدر کے مطابق 67 ارکان پارلیمنٹ نے گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی ذمہ داری دینے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے بن یامین نیتن یاہو کی حمایت کی۔ سات ارکان نے کسی بھی امیدوار کے حق میں سفارش نہیں کی۔

عرب جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ، جسے رعَم بھی کہا جاتا ہے، پہلے ہی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کرچکی تھی۔ اس جماعت کے پاس پارلیمان کی آٹھ نشستیں ہیں۔ بعد ازاں 11 نشستوں والی عرب جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی ان کی حمایت کردی، جس کے بعد آئزن کوٹ کے حق میں سفارش کرنے والے ارکان کی تعداد 67 ہوگئی۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی اتحادی مذہبی جماعت یونائیٹڈ توراہ یہودیت نے کسی بھی امیدوار کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے کی سفارش نہیں کی، جس کے باعث نیتن یاہو کی حمایت میں کمی آئی۔

انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کے ساتھ موجود یہودی اپوزیشن جماعتوں کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اگرچہ آئزن کوٹ کو صدر کے سامنے سب سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوئی ہے، تاہم حکومت تشکیل دینے کا عمل اب بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور اتحادی شرائط کے باعث پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔

صدر آئزک ہرزوگ کے مطابق مزید مشاورت کے بعد اتوار کو فیصلہ کیا جائے گا کہ کس رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کا باضابطہ مینڈیٹ دیا جائے۔ مینڈیٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد کنیسٹ سے اعتماد کا ووٹ بھی لینا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.