تازہ ترین

قلعہ سیف اللہ میں پشتون مشاورتی جرگہ، امن و امان اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور

0

قلعہ سیف اللہ: پشتون قوم اور عوام کے مسائل پر مشاورت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ضلع قلعہ سیف اللہ میں مشاورتی جرگہ منعقد ہوا، جس میں امن و امان، عوامی سہولیات، معدنی وسائل اور مختلف علاقوں میں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت منعقدہ جرگے میں سینکڑوں پشتون سفید ریش، سرداروں، ملکوں، علمائے کرام اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔

جرگے نے اپنا کارہندہ جرگہ منتخب کیا، جس نے ضلع قلعہ سیف اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے تقررات کے لیے نواب ایاز خان جوگیزئی کو مکمل اختیار دے دیا۔

جرگے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان اور ضلع قلعہ سیف اللہ کے سیکرٹری حاجی دارا خان جوگیزئی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری عبدالحق عبدال، ڈسٹرکٹ ڈپٹی چیئرمین منظور خان، ڈپٹی سیکرٹری نعمت اللہ کاکڑ اور وڑانگہ لونی بھی شریک تھے۔

مقررین نے کہا کہ ان کے خیال میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی متاثر ہونے کے بعد عوام کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے پشتون روایات کے مطابق جرگے کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر، کوئٹہ تفتان، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان اور کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف شاہراہوں پر امن قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مقررین نے بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پانی کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے، جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات بھی موجود نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی اور دہشت گردی کے ذریعے پشتون علاقوں کے معدنی وسائل پر قبضے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے۔

جرگے میں ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے تنگہ مسے زئی کے واقعے کی بھی مذمت کی گئی۔ شرکاء نے مغوی حیدر کاکڑ کی بازیابی، حنفیا کاکڑ اور ولی کاکڑ عرف ولو کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری، منشیات کے خاتمے اور جنگل پیرعلیزئی کو جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر سے پاک کرنے کے مطالبات کی حمایت کی۔

مقررین نے کہا کہ صوبے میں بدامنی، بدانتظامی اور پشتون عوام کو مختلف شعبوں میں درپیش مسائل کے حل کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، ہر ضلع کا جرگہ اس پر عملدرآمد میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

آخر میں شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ جرگے کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.