ملک میں حکومت کی تبدیلی اور نظام کے مستقبل سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر مسلم لیگ (ن) نے واضح مؤقف پیش کردیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ نظام اپنی جگہ برقرار ہے اور حکومت کے خاتمے یا تبدیلی سے متعلق خبریں محض افواہیں ہیں، جبکہ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں۔
ایک نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے ملکی سیاسی صورتحال، نئے صوبوں کی تشکیل، حکومتی نظام کی کارکردگی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔
حکومت کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف اس وقت ملک کے مؤثر وزیراعظم ہیں اور کسی دوسری سیاسی جماعت کے پاس ان کا ایسا متبادل موجود نہیں جو اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دے سکے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی کے نظام ناکام ہونے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ان کے مطابق ملک کے نظام میں چیلنجز ضرور موجود ہیں جنہیں حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر حل کرنا ہوگا، تاہم پورے نظام کو ناکام قرار دینا مناسب نہیں۔
انہوں نے صدارتی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام پر بحث ہوسکتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کو دہشتگردی اور معاشی مشکلات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں صدارتی نظام کے نفاذ کے امکانات محدود ہیں۔
نئے صوبوں کی تشکیل پر مؤقف
نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انتظامی یونٹس بنانے کی بحث نئی نہیں بلکہ تقریباً 50 سال سے جاری ہے۔ ان کے مطابق لوکل گورنمنٹ کا نظام صوبوں کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کا مکمل متبادل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ ہوتا ہے تو یہ عمل صرف ایک صوبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ چاروں صوبوں کو اس بحث میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، اس لیے پاکستان میں بھی مختلف انتظامی ماڈلز پر غور کیا جاسکتا ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر باقی صوبے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر متفق ہوں تو سندھ اکیلا اس عمل کی مزاحمت نہیں کرسکے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر فی الحال اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) یا حکومت کے ساتھ کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ابھی کوئی رسمی مشاورت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبے پہلے کے مقابلے میں زیادہ بااختیار ہوچکے ہیں، جس کے باعث صوبوں کی تقسیم کا عمل مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم سمیت مختلف آئینی اور جمہوری راستوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
عمران خان کے علاج پر حکومتی مؤقف
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن حکومت نے انہیں کبھی دشمن نہیں سمجھا۔ ان کے مطابق قانون تمام قیدیوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی ایک قیدی کے لیے ایسا خصوصی انتظام نہیں کیا جاسکتا جس کا مطالبہ بعد میں دوسرے قیدی بھی کریں۔
میاں نواز شریف کے علاج کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت اس وقت دی گئی تھی جب پاکستان میں ان کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کسی قیدی کو اسپتال منتقل کرنے یا داخل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کی سفارش کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، عدالت خود طبی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق حکومت نے عدالت میں اپنی وضاحت پیش کردی ہے، اس لیے توہینِ عدالت کا معاملہ پیدا نہیں ہوتا۔
ملکی سیاسی صورتحال میں ایک جانب نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات سے متعلق بحث جاری ہے جبکہ دوسری جانب عمران خان کے علاج اور طبی سہولیات کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی و قانونی اختلاف کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔