ڈسکوز کی نجکاری سے بجلی فوری سستی نہیں ہوگی، طویل المدت میں فائدہ ہوگا: مشیر نجکاری
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے کے باوجود صارفین کو بجلی کے نرخوں میں فوری کمی کی امید نہیں رکھنی چاہیے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے بجلی کے ضیاع، لائن لاسز اور وصولیوں میں بہتری آئے گی، جس کے طویل المدت اثرات صارفین کے لیے مثبت ہوسکتے ہیں۔
مشیر نجکاری محمد علی نے واضح کیا ہے کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل مکمل ہوتے ہی صارفین کو فوری طور پر بجلی سستی ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام “آن مائی ریڈار” میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا کہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو خریدنے کے لیے 12 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سے تقریباً 10 کمپنیاں پری کوالیفائی ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری سے عملی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، بجلی کے ضیاع میں کمی آئے گی اور بلوں کی وصولی بہتر ہونے کی توقع ہے، جس سے بالآخر بجلی کے نرخوں کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
مشیر نجکاری کے مطابق بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومتی منصوبوں کے تحت ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے نیا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آئی پی پیز معاہدوں پر دوبارہ بات چیت سمیت مختلف اقدامات شامل ہیں، تاکہ سرمایہ کاروں کو ایک محفوظ اور پیشین گوئی کے قابل ماحول فراہم کیا جاسکے۔
محمد علی نے بتایا کہ پاکستان کی تقسیم کار کمپنیاں مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں، جو نجی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا نیٹ ورک اور سرمایہ کاری کا پرکشش موقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے ساتھ ساتھ بجلی کے شعبے میں ایک مسابقتی مارکیٹ بھی قائم کی جا رہی ہے، جس کے تحت نجی مالکان کو اپنی بجلی پیدا کرکے فروخت کرنے کی اجازت دی جاسکے گی۔ اس اقدام سے شعبے میں مقابلے کا ماحول پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بجلی چوری کے حوالے سے مشیر نجکاری نے کہا کہ بجلی کی چوری، غیر ادا شدہ بلوں اور پرانے انفراسٹرکچر کا بوجھ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین پر پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بجلی کے نیٹ ورک کو جدید بنانا اور سمارٹ میٹرز کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔
محمد علی نے بتایا کہ ٹیکسز کے علاوہ بجلی کی قیمت کا تقریباً 85 فیصد حصہ بجلی کی پیداوار پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ ڈسکوز کا منافع اس کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بجلی سستی کرنے کے لیے صرف تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانا کافی نہیں بلکہ پیداواری شعبے میں بھی مقابلہ بڑھانا ہوگا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نجکاری مکمل ہوتے ہی صارفین کو بجلی سستی ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، البتہ طویل المدت بنیادوں پر اس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
مشیر نجکاری نے کے الیکٹرک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب اس کی نجکاری کی گئی تھی تو اس وقت لائن لاسز 40 سے 45 فیصد کے درمیان تھے، جو اب کم ہوکر تقریباً 15 فیصد پر آگئے ہیں۔
محمد علی کا کہنا تھا کہ جب نجی شعبہ بجلی کی تقسیم کے شعبے میں آئے گا اور لائن لاسز میں کمی ہوگی تو اس کا فائدہ سرمایہ کار کے ساتھ ساتھ عام صارف کو بھی پہنچے گا۔