تازہ ترین

پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات آخری مرحلے میں، ریلیف نہ ملا تو احتجاجی مارچ کریں گے، لیاقت بلوچ

0

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں، تاہم عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی احتجاجی مارچ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر پارٹی اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانا وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکراتی عمل کو موقع دینے اور مسئلے کا پُرامن حل نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم پارٹی کا مقصد عارضی ریلیف کے بجائے پائیدار سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکے۔

لیاقت بلوچ نے اسحاق ڈار اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے بھی رابطہ کیا اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حتمی فیصلے کرنے پر زور دیا۔

ان کے مطابق اسحاق ڈار نے انہیں بتایا کہ وہ غیر ملکی سفارتی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں مصروف ہیں اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حکومتی اقدامات سے اگلے روز آگاہ کریں گے۔

اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے ماہرین نے پارٹی قیادت کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دی۔ پیٹرولیم لیوی کے معاملے کے حل کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دینے کی غرض سے مشترکہ تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

اس سے قبل وزارت خزانہ میں مشترکہ تکنیکی ماہرین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جماعت اسلامی کے نمائندوں نے لیاقت بلوچ کو بتایا کہ وہ تاحال حکومت کی جانب سے ہدایات کے منتظر ہیں تاکہ کمیٹی لیوی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرسکے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات کے تمام ادوار اور وزیراعظم و امیر جماعت اسلامی کی ملاقات میں اس بات پر اتفاق سامنے آیا تھا کہ حکومت صارفین کو ریلیف فراہم کرے گی اور ان کے بقول غیر منصفانہ ٹیکس کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.