اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مستحق شہریوں کو سبسڈی کی سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسکیم پر اب تک ہونے والی پیشرفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں اسکیم پر عملدرآمد اور پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے سے شہریوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے پروگرام کی مؤثر نگرانی اور کارگر ڈیش بورڈ کی تیاری پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیول ریلیف پروگرام کے تحت اب تک 15,519,282 شہری رجسٹر ہوچکے ہیں، جن میں 15.06 ملین موٹر سائیکلیں اور 449 ہزار 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق اسکیم کے تحت اب تک 63,153,685 ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے 59,445,347 ٹوکن استعمال یا ریڈیم ہوچکے ہیں۔ 4 نومبر 2026 تک فیول سبسڈی کی مد میں 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پروگرام سے متعلق معلومات کی فراہمی اور شکایات کے ازالے کے لیے صارفین اور پیٹرول پمپس کے لیے الگ الگ کال سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ جو پیٹرول پمپس رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی کی سہولت فراہم نہیں کرتے، ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، معاون خصوصی برائے توانائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظفر اقبال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔