پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا ہے کہ نسلی بنیادوں پر صوبے بنانے سے ملک میں تباہی آسکتی ہے، جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل ناگزیر ہو تو اس کے لیے انتظامی بنیادوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اسلام آباد میں صنوبر انسٹیٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ’نئے صوبے اور طرزِ حکمرانی‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے کے انتظامی معاملات چلانے میں جغرافیائی وسعت اور طویل فاصلے بڑی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے بلوچستان کا انتظام چلانا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ بعض علاقوں تک پہنچنے میں 6 سے 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں اور کسی واقعے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں بھی کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے انتظامی مسائل اور وفاقی سطح پر تعاون کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو سال تک بلوچستان کے لیے اچھے پولیس افسران کی فراہمی کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن ان کے بقول صوبے کو ایک 58 سالہ خاتون اور ایک نابینا افسر بھیج دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے پنجاب پر تنقید تو کی جاتی ہے، تاہم کم لوگ جانتے ہیں کہ پنجاب اپنے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے حصے سے بلوچستان کو بھی حصہ دیتا ہے اور صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے سالانہ ایک ارب روپے فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے یا دارالحکومت منتقل کرنے کے لیے صرف اعلیٰ حکام کو دوسری جگہ منتقل کرنا کافی نہیں، بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے اور بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ملک کی موجودہ معاشی صورتِ حال میں کسی نئے انتظامی نظام کی تشکیل سے پہلے دستیاب وسائل کا درست جائزہ لینا ضروری ہے۔
دہشت گردی کے معاملے پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور تشدد کو کسی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ان سے صرف بیانیے کی حمایت چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ترقی کی بات کرتے ہیں، انہیں بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ کا حامی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف چھوٹے صوبے بنا دینا مسائل کا حل نہیں۔ ان کے مطابق صوبوں میں آمریت جیسی صورتِ حال ہے، اس لیے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ڈویژن کی سطح پر نظام قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
صنوبر انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سفیر اعزاز احمد چوہدری نے افتتاحی خطاب میں نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزرا کی جانب سے 12 سے 15 صوبے بنانے، 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنے یا 36 ڈویژنوں کو انتظامی اکائیاں بنانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت پر قائم ہیں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نئے صوبوں کی حامی ہے، پاکستان تحریک انصاف مشاورت کی خواہاں ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اس کی مخالف ہے۔
اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا نئے صوبے بہتر طرزِ حکمرانی کی ضمانت بن سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیے بغیر اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کیے بغیر محض جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔