تازہ ترین

دہشت گردی کی آڑ میں صوبے پر قبضے کی اجازت آئین نہیں دیتا، بیرسٹر علی ظفر

0

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی آئین اور جمہوری نظام کو نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر آئینی طریقہ کار اختیار کرے اور متعلقہ اقدامات واپس لے کر بات چیت کرے۔

سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ محسن نقوی کو بتانا چاہتا ہوں کہ آئین کو کس طرح پامال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر وزرا کی گرفتاری آئین شکنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے معاملے پر تمام فریق متحد ہیں، تاہم اس جنگ کے دوران آئین کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

علی ظفر نے سوال اٹھایا کہ کون سا قانون حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ دہشت گردی کا جواز بنا کر کسی صوبے پر قبضہ کیا جائے، منتخب وزیراعلیٰ اور کابینہ کو ہٹایا جائے یا انہیں گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین ایمرجنسی یا گورنر راج کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی مرضی سے ان دفعات کا اطلاق نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق بیرونی حملے کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، جبکہ اندرونی خلفشار کی صورت میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد سمیت آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت کے پاس صوبائی حکومت پر دہشت گردی یا دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزامات کے ثبوت ہیں تو انہیں ایوان میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق سمری بھی ایوان میں لائی جائے تاکہ معاملے پر آئینی اور قانونی بنیادوں پر بحث ہو سکے۔

علی ظفر نے محسن نقوی کے مذاکرات سے متعلق بیان کو بھی حقیقت کے برعکس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی اور خیبرپختونخوا میں لوگ ان کی بات نہیں مان رہے تھے، جس سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کو ناکام بنانے کا ارادہ پہلے ہی موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی کے معاملے پر بڑی غلطی کی ہے، کیونکہ صوبے میں حکومت کام کر رہی تھی۔ علی ظفر کے مطابق کسی وزیراعلیٰ یا کابینہ کو گرفتار کرنے سے عوامی تحریک ختم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی عوام کی سوچ کو پابند بنایا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ ملک اور ریاست کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو واپس لے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئین اور جمہوریت کو شکست نہیں ہونے دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.