کینیڈا کے جوابی ٹیرف پر ٹرمپ کا سخت ردعمل
واشنگٹن- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کینیڈا کی تجارتی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے 50 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کینیڈا کی تجارتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکا کا حصہ بنے بغیر بھی امریکی ریاست کی طرح فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا کئی برس سے امریکی کسانوں کی مصنوعات پر بھاری محصولات وصول کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس صورتحال کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان ٹیرف کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کاروباری حلقوں میں بھی باہمی تجارت اور مستقبل کی اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک شمالی امریکا کی اہم تجارتی شراکت داری رکھتے ہیں، اس لیے ٹیرف میں اضافے اور جوابی اقدامات سے مختلف شعبوں میں درآمدات، برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔