تازہ ترین

محمود اچکزئی کے جرگے کے اعلان پر مولانا عبدالواسع کے تحفظات سامنے آگئے

0

کوئٹہ-بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے محمود خان اچکزئی کی جانب سے کوئٹہ میں پشتونوں کا قومی جرگہ بلانے کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کو زیادہ مؤثر فورم قرار دیا ہے۔

مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بجائے صرف پشتون جرگہ بلانا افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے مسائل کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ صوبے کی تمام اقوام اور سیاسی جماعتیں ان حالات سے متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان، سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وسیع تر سیاسی مشاورت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد زیادہ مؤثر فورم ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی نے اس سے قبل کوئٹہ میں پشتونوں کا قومی جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد موجودہ حالات اور پشتون قوم کو درپیش مسائل پر مشاورت اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا بتایا گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں فرق صرف جرگے یا کانفرنس کے انعقاد تک محدود نہیں بلکہ مسائل کے سیاسی دائرہ کار سے بھی متعلق ہے۔ محمود خان اچکزئی پشتون علاقوں کے مسائل کو مرکز بنا کر اجتماعی جرگے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ مولانا عبدالواسع بلوچستان کے مسائل کو تمام اقوام اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ مؤقف اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ دونوں سیاسی قوتیں بلوچستان کی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر پشتون جرگے اور آل پارٹیز کانفرنس کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہ ہوا تو یہ آئندہ بلوچستان میں اپوزیشن کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

دوسری جانب، اگر دونوں تجاویز کو یکجا کرتے ہوئے پہلے آل پارٹیز مشاورت اور اس کے بعد جرگے کا راستہ نکالا جاتا ہے تو بلوچستان کے سیاسی معاملات پر وسیع تر اتفاقِ رائے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.