تازہ ترین
گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال نے ملکی صنعت اور سپلائی چین کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ صنعت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کا بحران طول پکڑنے کی صورت میں صنعتی پیداوار، برآمدات اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے کہا کہ صنعتی پیداوار کا پورا نظام خام مال کی بروقت فراہمی اور تیار مصنوعات کی مقررہ وقت پر ترسیل سے منسلک ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیکٹریوں کو خام مال بروقت نہ ملنے سے پیداواری عمل متاثر ہوگا، جبکہ تیار مال کی ترسیل میں تاخیر صنعت کاروں کے لیے مزید مالی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ پاکستان کی صنعتیں خصوصاً برآمدی شعبہ پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں ٹرانسپورٹ بحران اضافی بوجھ ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیار مصنوعات بروقت خریداروں تک نہ پہنچنے کی صورت میں بعض اوقات اضافی کلیمز، قیمت میں کمی یا نقصان کی تلافی کے مطالبات سامنے آتے ہیں۔
عبدالرحمان فدا نے کہا کہ صنعتوں کے لیے خام مال کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس میں رکاوٹ سے پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور فیکٹریوں میں معمول کی پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث برآمدی آرڈرز بروقت مکمل نہ ہوئے تو بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کاروباری تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ فریقین کے درمیان مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے قابل عمل راستہ نکالا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرانسپورٹ کا نظام طویل عرصے تک متاثر رہا تو اس کے منفی اثرات صرف صنعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملکی معیشت، برآمدات، روزگار اور مجموعی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.