تازہ ترین

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کی حمایت کردی

0

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ملک میں چھوٹے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، جن کا بنیادی مقصد اختیارات اور وسائل کو عوام کے مزید قریب لانا ہونا چاہیے۔

جام کمال خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے گورننس بہتر بنانے اور عوام کو سرکاری خدمات زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، تاہم صوبوں سے اضلاع تک اسی انداز میں اختیارات منتقل نہیں ہو سکے۔ اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات اور وسائل عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا تھا۔

وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ صوبوں کے اندر اضلاع میں وسائل کی تقسیم کے لیے بھی واضح اور منصفانہ فارمولا ہونا چاہیے۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی طرز پر اضلاع میں وسائل تقسیم کرنے کا طریقہ کار بنایا جائے، کیونکہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم سے ترقی میں فرق اور عوام میں محرومی و بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ ترقیاتی وسائل چند افراد یا محدود گروہوں کی صوابدید پر تقسیم نہیں ہونے چاہئیں اور کسی ضلع کے عوام کو صرف اس وجہ سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا نمائندہ حکومت میں شامل نہیں۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پاکستان کے مجموعی رقبے کا 44 فیصد ہے اور بعض علاقوں سے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ بنیادی سرکاری خدمات کے لیے شہریوں کو 600، 700 یا ایک ہزار کلومیٹر سفر نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کو بنیادی سہولیات اپنے علاقوں کے قریب میسر آئیں گی جبکہ چند اضلاع پر مشتمل انتظامی یونٹس میں مقامی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔ اس سے ترقیاتی وسائل کی متوازن تقسیم اور مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مسابقت بھی پیدا ہوگی۔

جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان کو یہ احساس ہے کہ فیصلہ سازی میں اس کی آواز کو مناسب اہمیت نہیں مل رہی، چھوٹے انتظامی یونٹس نوجوانوں میں شمولیت، اہمیت اور امید کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔

وزیر تجارت کے مطابق مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا انتظامی اصلاحات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کونسلر عوام کے سب سے قریب ہوتا ہے، اس لیے مقامی حکومتوں کو مناسب وسائل اور اختیارات دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کو یکساں انتظامی سہولیات اور ضروری وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ جس ضلع کے پاس گاڑی، افرادی قوت اور ضروری آلات نہ ہوں، اس سے یکساں کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

جام کمال خان نے زور دیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ، سینیٹ، ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ گورننس کے نظام کو عوام کی موجودہ ضروریات کے مطابق بہتر بنایا جائے، مقصد سیاست نہیں بلکہ عوام کو بہتر خدمات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.