تازہ ترین

لبنان کی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر اہم شرائط سامنے آگئیں

0

روم- لبنان نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد مذاکراتی عمل کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرلیا ہے۔ لبنانی وفد کی قیادت کے قریب ذرائع کے مطابق بیروت نے واضح کیا ہے کہ تین اہم معاملات پر خاطر خواہ پیش رفت تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا۔

العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ لبنان نے مذاکرات میں تین بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں پورے لبنانی علاقے میں مکمل جنگ بندی، بنت جبیل اور خیام پر مشتمل ایک نیا آزمائشی زون قائم کرنا اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں، رہائشی علاقوں، باغات اور زرعی زمینوں کی مسماری روکنا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق لبنان ان تینوں معاملات میں واضح پیش رفت کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز اسرائیلی فوج مغربی زوطر قصبے میں داخل ہوئی اور وہاں مٹی کا ایک بلند حصار قائم کیا۔ یہ علاقہ گزشتہ جون میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تحت لبنانی فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے پانچ دور مکمل ہونے کے بعد 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور آزمائشی زونز میں لبنانی فوج کی تعیناتی سمیت مختلف نکات شامل تھے۔

زوطر بھی ان آزمائشی زونز میں شامل ہے۔ لبنانی فوج نے 21 جولائی کو اس علاقے میں اپنی پوزیشن سنبھالی تھی۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج کو اپنی تعیناتی کے بعد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرکاری فورسز کے علاوہ کسی بھی دوسرے مسلح گروپ کی فوجی موجودگی روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

یہ عمل جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی جانب ایک آزمائشی قدم قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان 6 اگست کو روم میں براہِ راست مذاکرات کا ساتواں دور مکمل ہوا، تاہم لبنانی صدارتی محل کے ایک ذریعے کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے انخلا کے لیے ایک نئے علاقے کے تعین سے متعلق لبنانی مطالبہ مسترد کردیا۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ پہلے ان دو علاقوں میں لبنانی فوج کے مکمل کنٹرول کی تصدیق کی جائے جہاں وہ پہلے ہی تعینات ہوچکی ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے اور اپنے ہتھیار چھوڑنے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لبنان یکم مارچ کو اس وقت جنگ میں شامل ہوا تھا جب حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے دوران ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں شروع کردیں۔

لبنانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 4 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور لبنان و اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے بعد جنوبی لبنان میں تشدد میں کمی ضرور آئی، تاہم صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔

اسرائیل نے اپنی سرحد کے ساتھ جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی تک سکیورٹی زون برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں، مسماری اور دیگر فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.