وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو نئے کاروباری ماڈل کے تحت ازسرِنو منظم کیا جارہا ہے، جس کے ذریعے ادارہ اپنے مالی وسائل پیدا کرکے آئندہ دس برس میں ملک کی تمام بڑی شاہراہوں کی تعمیر اور بحالی کا کام کرے گا۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد موٹروے کو چار سے چھ رویہ کرنے پر کام جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف دسمبر میں اس منصوبے کا افتتاح کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا منصب سنبھالا تو این ایچ اے کی سالانہ آمدن 66 ارب روپے تھی، جو ایک سال میں بڑھ کر 160 ارب روپے ہوگئی۔ ایم فور موٹروے کی توسیع بھی ادارے کے اپنے پیدا کردہ وسائل سے کی جارہی ہے، جبکہ دیگر شاہراہوں کے منصوبے بھی اسی طریقہ کار کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
عبدالعلیم خان کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت این ایچ اے کے لیے 230 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم ادارے کو 160 ارب روپے موصول ہوئے، جن میں سے 112 ارب روپے بلوچستان میں سڑکوں کے منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے کے 66 جاری اور منصوبہ بندی کے مراحل میں موجود منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے درکار ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم فور موٹروے کو چھ رویہ کرنے کے منصوبے پر تقریباً 15 ارب روپے لاگت آئے گی، جو این ایچ اے اپنے وسائل سے فراہم کرے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ موٹرویز پر معیاری آرام گاہوں اور واش رومز کی سہولیات ناکافی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ جون سے پہلے ہر 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر جدید آرام گاہیں قائم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ موٹرویز کے اطراف متعلقہ علاقوں کی آب و ہوا اور زرعی موزونیت کے مطابق پھل دار درخت لگائے جائیں گے۔ سرگودھا کے قریب کینو اور ملتان کے علاقے میں آم کے درخت لگانے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شجرکاری میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو زمین بغیر کرائے کے لیز پر دی جائے گی، جبکہ درختوں پر پھل آنے کے بعد آمدن کی تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔
گلگت، اسکردو روڈ کے حوالے سے وزیر مواصلات نے بتایا کہ تقریباً 160 سے 180 کلومیٹر طویل شاہراہ کو لینڈ سلائیڈنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی شیڈز تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کرتارپور اور ننکانہ صاحب روڈ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری سڑک کی تعمیر کے تمام اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ ننکانہ صاحب میں عالمی معیار کے ہوٹل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ستھیانہ روڈ پنجاب حکومت کی ملکیت ہے، تاہم وفاقی حکومت جہاں ضرورت ہوگی تعاون کرے گی۔ پاکستان پوسٹ کے خسارے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی بحالی کے لیے کاروباری منصوبہ تیار کیا جارہا ہے، کیونکہ تقریباً 22 ہزار خاندان اس سے وابستہ ہیں۔
اس سے قبل فیصل آباد چیمبر کے صدر عارف احسان ملک نے وزیر مواصلات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر 128 سے زائد تجارتی اداروں اور 20 ہزار سے زیادہ ارکان کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے پنڈی بھٹیاں انٹرچینج منصوبے کی تکمیل دسمبر کے آخر تک یقینی بنانے اور ستھیانہ روڈ کو ایم تھری موٹروے سے ملانے کے لیے انٹرچینج تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے فیصل آباد کی درآمدات اور برآمدات کی بندرگاہوں تک بلا تعطل رسائی، موٹرویز کے حفاظتی انتظامات، ٹول ٹیکس میں تبدیلی سے پہلے اطلاع دینے اور اوورلوڈ گاڑیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
چیمبر کے صدر نے موٹرویز کے قریب فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی اسموگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکام کو معلومات فراہم کرنے اور موٹروے ہیلپ لائن بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔ تقریب میں سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں محمد ادریس، چیمبر کے دیگر عہدیداروں اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی۔