امریکا اور ایران میں ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر قطر کی نئی سفارتی کوششیں
دوحہ: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے پیش نظر قطر نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں، جبکہ ایران نے اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کا انتباہ دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان تہران میں 12 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے، جن کے بعد دوحہ میں بھی سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات واشنگٹن کے ساتھ جاری رابطوں کی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں کمی کے لیے کسی مثبت پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے فوجی خطرات کے خلاف فوری اور بھرپور جواب دینے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی جوابی کارروائی کسی مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوگی۔
ایرانی مسلح افواج نے بھی اپنی جنگی تیاریوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق خلیجی ساحلی علاقوں، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور ملک کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں سمیت حساس مقامات پر سکیورٹی اور دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر اپنے والد کی فروری میں جنگ کے آغاز پر ہلاکت کے بعد سے عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ تہران پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کی صورت میں پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جس سے تنازع پورے خطے میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
خلیجی ممالک میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کے ممکنہ فیصلوں پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا، جبکہ انتخابات سے قبل امریکا کی جانب سے ایران پر مزید حملے نہ کیے جانے کو بھی علاقائی حکومتیں قریب سے دیکھ رہی ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے سفارتی راستے کھلے رکھنے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ہفتے ایران کے ایک سینئر سخت گیر سکیورٹی عہدیدار کو خط بھیجا ہے، جس کا مقصد مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ جے ڈی وینس اس سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت بھی کرچکے ہیں۔
قطر نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے سات روزہ سفارتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت ابتدائی سات دنوں میں دونوں فریقوں سے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کی توقع کی گئی ہے، جس کے بعد خلیجی تنازع کے خاتمے کے لیے وسیع تر مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں۔
ایران بھی ستمبر سے اپنا سات روزہ منصوبہ پیش کر رہا ہے، جس میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاہدے سے قبل ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایران کی حمایت یافتہ انتظامی تجویز منظور کی جائے۔
خطے کے دیگر ممالک بھی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ پاکستان نے بھی اس تنازع کے دوران ثالثی کی کوششوں میں حصہ لیا تھا، جو خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔