وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عوام کی جانوں، صوبے کی معیشت، معاشرتی تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے ضروری تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم تجاویز قبول نہ کیے جانے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے، جس کے بعد حکومت متفقہ مسودے کی منظوری کا انتظار کرتی رہی، تاہم اس پر پیشرفت نہ ہوسکی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر فیصلہ کرنے میں مزید تاخیر کی جاتی تو صوبے کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا تھا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ماضی کی طرح مشترکہ طور پر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔
وزیراعظم کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو تقریباً 80 ہزار انسانی جانوں اور 150 سے 200 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک قوم اور ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ملک میں دہشت گردی پر قابو پالیا گیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے بڑی قربانیاں دیں۔
شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لاکر سوات میں آباد کیا گیا، جس کے بعد گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ہزاروں مزید افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو ملنے والے اضافی وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ وزیراعظم کے مطابق صوبے کو اضافی ایک فیصد حصے سمیت تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس دوران کتنے سیف سٹی منصوبے قائم ہوئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کس حد تک مضبوط بنایا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پولیس کی تقریباً 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ دستیاب وسائل جدید اسلحے اور تربیت کے ذریعے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال کیے جانے چاہئیں تھے۔
انہوں نے گزشتہ 13 برسوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں، لانگ مارچ اور دھرنوں کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس عرصے میں کتنی جامعات اور اسپتال قائم کیے گئے اور عوامی وسائل کس طرح استعمال ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور، کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع کے عوام اب بھی متعدد مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔
شہباز شریف نے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا، جو بعدازاں 2015 میں ممکن ہوا اور اس دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں بھی اس دور کے اقدامات کا اہم کردار تھا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی تنازع اور عالمی حالات کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایندھن سبسڈی اسکیم شروع کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ واؤچر اسکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے، جبکہ عوامی ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو معاونت فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں مزید دانش اسکول قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ کے مستحق بچوں کو لاہور کے ایچی سن کالج کی طرز پر تعلیم فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن صوبے کی ترقی، امن، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے کام جاری رکھے گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبے کے عوام نے ان کے بقول احتجاجی سیاست کو مسترد کردیا ہے اور وہ ترقی اور امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت میں پارٹی کارکن ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔