تازہ ترین

سورج مکھی کے بیج غذائیت سے بھرپور، روزمرہ خوراک میں کیسے شامل کریں؟

0

سورج مکھی کے چھوٹے چھوٹے بیج کئی اہم غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں اور انہیں روزمرہ خوراک میں شامل کرکے متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان میں پروٹین، فائبر، وٹامن ای، بی گروپ کے بعض وٹامنز اور میگنیشیم، پوٹاشیم، آئرن، فاسفورس، کیلشیم اور زنک جیسے ضروری معدنیات پائے جاتے ہیں۔

غذائیت کے ماہرین کے مطابق سورج مکھی کے بیجوں میں موجود پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائیاں اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی معمول کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مناسب مقدار میں ان کا استعمال دل کی صحت برقرار رکھنے اور کولیسٹرول کی سطح بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے، تاہم یہ ذیابیطس، بلند فشارِ خون یا کولیسٹرول کے علاج کا متبادل نہیں ہیں۔

سورج مکھی کے بیج پھول کے مرکزی حصے میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ تیل نکالنے کے لیے استعمال ہونے والے بیج عموماً سیاہ ہوتے ہیں، جبکہ خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی کئی اقسام کے چھلکوں پر سیاہ اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں۔

بنگلور کے مدرہڈ ہاسپٹل کی کنسلٹنٹ ڈائیٹیشن اور نیوٹریشنسٹ آر ڈی این دیویا گوپال کے مطابق سیاہ سورج مکھی کے بیج بھی کھانے کے لیے محفوظ ہیں اور انہیں کچا یا بھون کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں پروٹین، فائبر، چکنائی، وٹامنز اور معدنیات موجود ہوتے ہیں، جو انہیں غذائیت سے بھرپور غذا بناتے ہیں۔

سورج مکھی کے بیجوں میں غیر سیر شدہ چکنائیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن میں اومیگا 6 اور مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹس شامل ہیں۔ متوازن غذا کے حصے کے طور پر یہ چکنائیاں دل کی صحت کے لیے مفید ہوسکتی ہیں۔ ان بیجوں میں فائٹوسٹیرولز بھی موجود ہوتے ہیں، جو جسم میں کولیسٹرول کے جذب ہونے کے عمل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

سورج مکھی کے بیجوں سے خوردنی تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے، تاہم اس تیل کی غذائی خصوصیات اس کی تیاری اور استعمال کے طریقے پر منحصر ہوتی ہیں۔ بیجوں کو خوراک میں شامل کرتے وقت زیادہ نمک والے بیجوں سے گریز کرنا اور مناسب مقدار استعمال کرنا بہتر ہے، کیونکہ ان میں چکنائی اور توانائی کی مقدار بھی خاصی ہوتی ہے۔

دنیا کے کئی خطوں میں سورج مکھی کی کاشت کی جاتی ہے، جبکہ روس، چین، بھارت، امریکا اور ترکی اس فصل کے نمایاں پیداواری ممالک میں شامل ہیں۔ سورج مکھی کے پودے کی زمین سے بعض معدنی عناصر جذب کرنے کی صلاحیت پر بھی تحقیق کی گئی ہے، تاہم اس خصوصیت کی بنیاد پر بیجوں کے ہر استعمال سے کسی مخصوص طبی فائدے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.