تازہ ترین

شیشہ پینے والے ہوشیار! ایک گھنٹے کا شیشہ، 40 سگریٹوں جتنا دھواں؟ ماہرین نے خبردار کردیا

0

شیشہ پینے کو سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھنے والوں کے لیے طبی ماہرین نے تشویش ناک انتباہ جاری کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شیشے کا دھواں بھی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے، جبکہ ایک گھنٹے تک شیشہ پینے کے دوران دھوئیں کی مقدار کا موازنہ تقریباً 40 سگریٹوں سے کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی اخبار خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشہ پینے سے صحت کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کے دھوئیں کو محفوظ سمجھنا درست نہیں۔ ڈاکٹر سلیمان الحبیب میڈیکل گروپ کے ماہرِ امراضِ سینہ ڈاکٹر محمد فوزی قطرانجی کے مطابق ایک گھنٹے تک شیشہ پینے کے دوران دھوئیں کی مقدار کا موازنہ تقریباً 40 سگریٹوں سے کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب سعودی جرمن اسپتال کی ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر ریچل کامنسکی کا کہنا ہے کہ بعض افراد مسلسل دو سے چار گھنٹے تک شیشہ پیتے ہیں، جس کے دوران دھوئیں کی مجموعی مقدار بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شیشے میں موجود پانی دھوئیں کے نقصان دہ اجزا کو ختم کردیتا ہے، لیکن حقیقت میں پانی دھوئیں کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتا۔ شیشے کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ، تارکول اور دیگر نقصان دہ مادے موجود ہوسکتے ہیں، جو دل اور پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ریچل کامنسکی کے مطابق مسلسل کھانسی، بلغم، سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز اور سانس پھولنے کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ علامات پھیپھڑوں کی دائمی بیماری سی او پی ڈی (COPD) کی ممکنہ نشاندہی بھی کرسکتی ہیں، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ سانس لینے میں دشواری بڑھ سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے شیشہ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کے استعمال سے اجتناب کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسلسل کھانسی، سانس پھولنے یا سانس سے متعلق دیگر علامات ظاہر ہوں تو طبی مشورہ لینا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.