مغربی کنارے میں تشدد اور غزہ میں نسل کشی، اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی
فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی سطح پر تنقید ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت قائم آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا، جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق اس کے سابقہ نتائج بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے مسلسل تشدد کے دوران شہریوں کو وسیع پیمانے پر منظم حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کمیشن کی نئی رپورٹ میں اسرائیلی حکام اور فورسز پر قتل، تشدد، ریپ، دیگر اقسام کے جنسی تشدد اور قومیت، نسل یا نسلی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے ذریعے ظلم و ستم جیسے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل کمیشن نے ستمبر 2025 کی اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل نے نسل کشی کی۔ یہ کمیشن کے نتائج ہیں، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
اسرائیل نے نئی رپورٹ کو بھی سختی سے رد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف منفی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ جنیوا میں اسرائیلی مشن کے مطابق رپورٹ اسرائیل کو بدنام کرنے اور اس کے وجود کو مجرمانہ ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
اسرائیل نے عالمی برادری سے تحقیقاتی کمیشن کے نتائج مسترد کرنے اور کمیشن کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یہ تین رکنی تحقیقاتی کمیشن 2021 میں قائم کیا تھا۔ اس کی سابق سربراہ اور جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی سابق جج ناوی پلّے کا نام بھی رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔