تازہ ترین

ریلیف نہ ملا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کریں گے، حافظ نعیم

0

لاہور: جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک تیز کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے حکومت سے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ عوام کو مناسب ریلیف نہ ملا تو ان کی جماعت نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکج عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے مطابق موٹرسائیکل سواروں اور طلبہ کو ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف دینے سے مہنگائی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیڑھ کروڑ موٹرسائیکل سوار حکومتی پیکج سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں، اس لیے عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور ریفائنریوں کے منافع کے مارجن میں کمی سے پیٹرول کی قیمت تقریباً 225 روپے فی لیٹر تک آسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاہدے میں پیٹرولیم لیوی عائد کرنا لازمی شرط نہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں بھی کمی نہیں آ رہی۔

امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ ان کی جماعت مہنگائی کے خلاف عوامی آگاہی کے لیے متعدد جلسے، احتجاج اور دستخطی مہم چلا چکی ہے۔ ان کے مطابق 42 شہروں میں دھرنوں کے بعد حکومت نے کچھ ریلیف دیا، تاہم موجودہ اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق وزرا نے ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کی کمیٹی سے رابطہ کیا ہے، تاہم جماعت کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی مذاکرات کو محض ملاقات یا سیاسی سرگرمی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کی ترجیح عوام کو معاشی ریلیف دلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے فلسطین کی صورتِ حال پر بھی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام امن کے منتظر ہیں، جبکہ ان کے بقول اقوام متحدہ عالمی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.