تازہ ترین

سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی نمازِ جنازہ میں وزیراعظم سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی شرکت

0

راولپنڈی میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کی اہم شخصیت، سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ (ریٹائرڈ) کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نمازِ جنازہ آرمی ریس کورس گراؤنڈ راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا بھی موجود تھے۔

نمازِ جنازہ میں سابق آرمی چیفس، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمینز اور دیگر حاضر سروس و ریٹائرڈ سول اور فوجی حکام نے بھی شرکت کی اور سابق آرمی چیف کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک پاکستان آرمی کے سربراہ رہے۔ انہیں ملک کے ایک اہم سیاسی بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔

جنرل کاکڑ نے اکتوبر 1959 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت مکمل کرنے کے بعد کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی پیشہ ورانہ تربیت میں کینیڈا کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تعلیم و تربیت شامل تھی۔

آرمی چیف بننے سے قبل جنرل کاکڑ جنرل ہیڈکوارٹرز میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے تھے، جبکہ وہ کوئٹہ میں قائم بارہویں کور کی کمان بھی سنبھال چکے تھے۔

جنوری 1993 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے انتقال کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فوج کی کمان سنبھالی۔ اسی سال وہ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کے خاتمے کی کوششوں میں اہم کردار کے باعث نمایاں ہوئے۔

اس سیاسی بحران کے نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے، جس کے بعد نگراں حکومت کے تحت نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس سیاسی سمجھوتے کو عام طور پر ’’کاکڑ فارمولا‘‘ کہا جاتا ہے، جو ان کے دورِ سربراہی کا نمایاں حوالہ بن گیا۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ نے جنوری 1996 میں اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائرمنٹ لے لی اور فوج کی کمان جنرل جہانگیر کرامت کے سپرد کردی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے نسبتاً نجی زندگی اختیار کی اور عوامی سطح پر کم ہی دکھائی دیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.