1. ایرانی صدر کا اسلامی ممالک پر اتحاد اور مشترکہ سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے پر زور
تہران میں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ سلامتی کے معاملات پر اہم سفارتی رابطے ہوئے ہیں، جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، تعاون اور اختلافات کے خاتمے پر زور دیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے وفد میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن شامل تھے۔ وفد نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سمیت ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی حکام کے مطابق چار ملکی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی تھی، جس پر ایران نے آمادگی ظاہر کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے، علاقائی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں اختلافات ختم کرنے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مفادات، سلامتی اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اہم اسلامی ممالک کے نمائندوں کی شرکت سے علاقائی اتحاد اور ہم آہنگی مضبوط ہوگی۔
پزشکیان نے غزہ، لبنان اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ طور پر عدم تحفظ اور خطے کو درپیش خطرات کا مقابلہ کریں۔ اجلاس میں علاقائی تنازعات، سلامتی کے معاملات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی توجہ دی گئی۔
ایرانی قیادت نے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کی آمادگی کا اظہار کیا۔ پزشکیان نے ایران کے پُرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کے حق کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تاہم اجلاس کے نتیجے میں کسی حتمی معاہدے یا عملی فیصلے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔