آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے 8 اگست سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے وہیل جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے، اور جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔
ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں پیٹرول کی قیمتوں میں روزانہ کی تبدیلی کا خاتمہ اور ماہانہ نظام کی بحالی، حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینا، 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ یا اسے کم کر کے 2 فیصد کرنا، کسٹمز ایس آر او 1619/2024 کی واپسی، اور کراچی پورٹ و پورٹ قاسم کے قریب پارکنگ کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔
الائنس نے پیٹرولیم وزیر پرویز علی ملک کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹرز نے 20 سال سے پرانی گاڑیوں پر پابندی کی پالیسی کو بھی مسترد کر دیا۔
اس ہڑتال سے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ، صنعتی سامان اور کمرشل کارگو کی ترسیل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا۔