تازہ ترین

عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ خام تیل 106 ڈالر سے اوپر

0

سنگاپور: سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 89 سینٹ، یعنی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 106.58 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 80 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 94.94 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو قرار دیا جارہا ہے۔ سعودی عرب میں میزائل حملوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے دو حوثی میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیے، تاہم ان کا ملبہ رہائشی علاقوں میں گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے، جن میں دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ملبے کے باعث تقریباً 15 گھروں کو معمولی نقصان بھی پہنچا۔

ایک الگ واقعے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دھراں میں واقع عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی حکام نے یہ بھی بتایا کہ یمن سے دھراں کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی رسد، بحری راستوں کی سلامتی اور تیل کی قیمتوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اگر حملوں میں شدت آئی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.