تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئینی اقدام تھا، اپوزیشن مذاکرات کرے، بلاول بھٹو

0

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آئین کے تحت کیا گیا اور اس کا مقصد صوبے میں ایمرجنسی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنا نہیں تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی بات چیت کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر عائد کی اور اس کے اقدامات کو ’’سیاسی خودکش حملہ‘‘ قرار دیا۔

اجلاس میں وفاقی حکومت کے فیصلے پر بحث کے لیے سوالات کا وقفہ معطل کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تحریک پیش کی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری آئین کے مطابق دی۔ ان کے مطابق حکومت نے فیصلے سے قبل اپوزیشن کے ساتھ رابطے اور مذاکرات کی کوششیں بھی کی تھیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ناگزیر حالات کے تحت نافذ کی گئی اور اسے غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپوزیشن کی جانب مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھائے تاکہ سیاسی مسائل کے حل کی راہ نکل سکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر اپوزیشن ایسے سیاسی حالات پیدا کرنے میں تعاون کرے جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ خود وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.