قطر سے ایل این جی کی نئی کھیپ موصول، توانائی بحران کم ہونے کی امید
پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی ایک اہم کھیپ موصول ہوگئی ہے، جس سے ملک میں گیس کی قلت کے دباؤ میں کسی حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔
تاہم درآمدی سپلائی میں غیر یقینی صورت حال اور مقامی گیس کی پیداوار میں رکاوٹوں کے باعث آئندہ موسم سرما میں توانائی بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ برقرار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل این جی بردار جہاز ’الاریش‘ منگل کی صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر لنگرانداز ہوا، جبکہ دوپہر 12 بجے گیس کی ری گیسیفکیشن شروع کردی گئی۔
اس عمل کے ذریعے یومیہ 150 ملین مکعب فٹ ری گیسیفائیڈ ایل این جی یعنی آر ایل این جی قومی گیس نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق اکتوبر میں موصول ہونے والی یہ پہلی ایل این جی کھیپ ہے، حکام قطر سے مزید 3 کارگوز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے لیے ایرانی اور امریکی حکام کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔
تاہم موجودہ صورت حال میں اکتوبر کے دوران صرف 2 کارگوز ملنے کی توقع ہے، جو ستمبر میں موصول ہونے والی کھیپوں کے برابر ہیں۔
اینگرو کا ایل این جی ٹرمینل 26 ستمبر سے گیس بردار جہاز کی عدم دستیابی کے باعث بند تھا، دوسری جانب پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ یعنی پی جی پی ایل کا دوسرا ایل این جی ٹرمینل 9 اکتوبر سے گیس کے ذخیرے کی کمی کے باعث غیر فعال ہے۔
حکام کو توقع ہے کہ آئندہ 8 سے 10 روز میں اس ٹرمینل کے لیے ایک اور کھیپ کا انتظام کر لیا جائے گا۔
ایل این جی کی فراہمی معطل ہونے سے بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی دستیابی بھی متاثر ہوئی، 9 سے 13 اکتوبر کے دوران دونوں ٹرمینلز پر ری گیسیفکیشن نہیں ہو رہی تھی، جبکہ 13 اکتوبر کو بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی فراہمی تقریباً 38 ملین مکعب فٹ یومیہ رہ گئی تھی۔
پاکستان کی ایل این جی سپلائی کو قطر انرجی کی جانب سے 4 مارچ کو نافذ کیے گئے فورس میجر کے باعث بھی مشکلات درپیش ہیں۔
یہ اقدام 2 مارچ 2026 کو قطر کی بڑی ایل این جی پیداواری تنصیب راس لفان پر ایرانی حملے کے بعد کیا گیا تھا، فورس میجر کی مدت میں 2 مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے اور تازہ ترین توسیع 6 نومبر تک ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورت حال بہتر نہ ہونے پر اس مدت میں مزید توسیع کا امکان بھی موجود ہے۔