تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر قانونی جنگ شروع، پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

0

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے قانونی محاذ پر پیش رفت کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے صوبے کی منتخب حکومت کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی، جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مقام اور مبینہ حراست سے متعلق بھی قانونی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے مطابق، درخواست وفاقِ پاکستان اور دیگر فریقین کے خلاف دائر کی گئی ہے، جس میں صوبے میں عوام کی منتخب نمائندہ حکومت بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ٹھکانے کا پتا لگانے اور یہ معلوم کرنے کے لیے بھی عدالتوں سے رجوع کر رہی ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سیاسی رابطوں کے ساتھ تمام آئینی اور قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی کے اسپیکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی کے گھروں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اس کی اہمیت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں مذاکرات کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی کے لیے یہ معلوم کرنا انتہائی اہم ہے کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور انہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی سیاسی سطح پر رابطے جاری رکھنے کے ساتھ قانونی اور آئینی اقدامات بھی کرے گی۔

ایک الگ پیش رفت میں پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا میڈیا سیل نے الزام لگایا کہ پولیس نے سہیل آفریدی کے وکیل بشیر وزیر کو پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے اغوا کر لیا ہے۔ یہ الزام پارٹی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

یہ پیش رفت وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت پی ٹی آئی کی قیادت والی صوبائی انتظامیہ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اپنے اقدام کے حق میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے تعاون سے متعلق مبینہ خامیوں کا حوالہ دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے یہ مداخلت ضروری تھی، جبکہ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو چیلنج کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.