تازہ ترین

مودی حکومت کے لیے نیا چیلنج؟ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج پھیلنے لگا

0

بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کے معاملے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں اپوزیشن جماعت کانگریس اور نوجوانوں کی نمائندہ کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج کر رہی ہیں، جبکہ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنازع کی بنیادی وجہ ووٹر فہرستوں سے تقریباً ساڑھے 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے کا دعویٰ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خدشہ پیدا ہوا ہے اور مسلم ووٹرز بھی غیر متناسب طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ ان تبدیلیوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچا، تاہم بی جے پی اور انتخابی ادارے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بھارت بھر میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی کا عمل جاری ہے، جس کے تحت گھر گھر جا کر ووٹرز کی معلومات کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد فہرستوں کو تازہ ترین بنانا، دہرے اندراج ختم کرنا اور نااہل ووٹرز کے نام خارج کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم ناقدین نے اس عمل میں استعمال ہونے والے مرکزی ڈیجیٹل نظام اور مقامی انتخابی حکام کو حاصل محدود اختیارات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ناقدین کے مطابق مرکزی نظام میں غلطیوں کی بروقت اصلاح کے محدود مواقع کے باعث ایسے افراد کے نام بھی فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں جو ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ اس صورتحال میں متعدد شہریوں کو اپنے اور اپنے والدین، حتیٰ کہ بعض معاملات میں دادا دادی اور نانا نانی کے کئی دہائیوں پرانے دستاویزات تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔ بعض افراد ناموں کے ہجے، ترجمے اور ڈیٹا درج کرنے میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ دستاویزات کی سخت شرائط، مختصر مدت اور بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے کے باعث غریب، نقل مکانی کرنے والے، بزرگ، بے گھر اور خانہ بدوش افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان جماعتوں کو خدشہ ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی مستقبل کے ریاستی انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے پینل میں شامل دو ارکان نے دس ماہ کے دوران ووٹر فہرستوں، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے کم از کم 14 باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔

اس معاملے میں بھارتی سپریم کورٹ کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ عدالت نے خصوصی نظرثانی کے عمل کو برقرار رکھتے ہوئے درست ووٹر فہرستوں کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری قرار دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ انتخابی پینل شہریت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ناموں کے مبینہ من مانے اخراج اور دیگر بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا، جبکہ یکم اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے حکام کو فہرستوں سے خارج ہونے والے ووٹرز کی نشاندہی اور دوبارہ اندراج کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

دوسری جانب نوجوانوں کی نمائندہ کاکروچ جنتا پارٹی بھی مختلف عوامی مسائل پر سرگرم ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس گروپ نے حالیہ مہینوں میں عوامی مسائل پر مہمات چلائیں اور بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے دباؤ بڑھایا۔ اب یہ گروپ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

ووٹر لسٹوں کے تنازع نے بھارت میں انتخابی شفافیت، شہریوں کے حقِ رائے دہی اور انتخابی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس عمل پر سوالات اٹھا رہی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.