پاکستان اور عمان نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت اور انسانی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس آئندہ سال عمان میں منعقد ہوگا۔
اسلام آباد میں عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمود البوسیدی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر ہوا، جس میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، کاروباری روابط مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق تجارت، زراعت، تیل و گیس، محنت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔ سفارتی، خصوصی سروس اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے علاوہ اطلاعات، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرکائیوز اور میڈیا کے شعبوں میں بھی تعاون کے معاہدوں پر کام کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے کاروباری طبقوں کے درمیان روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جلد پاکستان میں ایک فورم منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ ان واقعات میں ایک پاکستانی شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ اسحاق ڈار نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت، غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور مسئلہ جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل پر بھی زور دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
عمانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے تاریخی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سراہا۔