پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، ایرانی سفیر
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد سفارتی عمل کو آگے بڑھانے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں، پاکستان میں ایرانی سفیر ڈاکٹر امیری مقدم نے مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ضرورت پڑنے پر سیکیورٹی چیلنجز کا جواب دینے کیلئے بھی تیار ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کو سراہا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کیلئے راستہ ہموار کرنا تھا۔
ڈاکٹر امیری مقدم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے سفارتی عمل کی کامیابی کیلئے قابلِ اعتماد یقین دہانیاں اور طے شدہ امور پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہوگا۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، رابطوں اور علاقائی معاشی تعاون کو بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ جغرافیائی قربت کی بدولت نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور نئی علاقائی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق ایران پاکستان کیلئے وسطی ایشیا، قفقاز، ترکیہ اور یورپی منڈیوں تک رسائی کا راستہ بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان ایران کو جنوبی ایشیا اور دیگر منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے سڑک، ریل اور بحری رابطوں کو معاشی تعاون کے بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے پاکستان اور ایران کی سرحد پر گزرگاہوں کی توسیع اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر امیری مقدم نے کراچی، گوادر اور بندر عباس کے درمیان ممکنہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زمینی اور بحری روابط میں بہتری سے دونوں ممالک اور وسیع تر خطے کے درمیان تجارت اور آمدورفت کو فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کو پاکستانی غذائی مصنوعات کی برآمدات اور پاکستان کے ذریعے راہداری تجارت بڑھانے کے امکانات بھی اجاگر کیے۔
ریل رابطوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایران نے زاہدان اور پاکستانی سرحد کی جانب ریل کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے، تاہم مؤثر رابطہ قائم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب مزید ترقیاتی کام درکار ہیں۔
ایرانی سفیر نے لبنان، شام، یمن اور غزہ میں جاری تنازعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی خطے میں عدم استحکام بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے تنازعات کے پُرامن حل کیلئے مسلسل سفارتی رابطوں پر زور دیا۔
ان کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اور مستقل رابطہ نہ صرف دونوں ممالک کی معاشی ترقی بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور باہمی روابط کیلئے بھی اہم ہے۔