ریاض: سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد فضائی سفر کا نظام متاثر ہوا ہے، متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ یا مؤخر کردیں، جبکہ پاکستان سے سعودی عرب جانے والے مسافروں کو بھی تاخیر اور منسوخی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے 6 اور 7 اکتوبر کو ابہا ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد دونوں ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن کئی گھنٹوں کیلئے معطل کرنا پڑا۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق جبکہ سعودی، بنگلادیشی اور فلپائنی شہریوں سمیت 28 افراد زخمی ہوئے۔ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سوڈانی شہری جاں بحق اور آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ سعودی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل تھا۔
حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث مختلف فضائی کمپنیوں نے اپنے شیڈول تبدیل کیے۔ سنگاپور ایئرلائنز نے ریاض کیلئے اپنی نئی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ 28 مارچ تک مؤخر کردیا، جبکہ فلپائن ایئرلائنز نے کم از کم 11 اکتوبر تک پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ السعودیہ، مصر ایئر، انڈیگو اور ایئر انڈیا کی متعدد پروازیں بھی منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس صورتحال کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت مختلف ہوائی اڈوں سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک جانے والی متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق لاہور سے جدہ اور ریاض جانے والی سات سے زائد پروازوں کو سعودی عرب کے متبادل ایئرپورٹس پر اتارا گیا، جبکہ لاہور سے 21 پروازیں منسوخ ہوئیں اور کئی پروازوں میں تین سے دس گھنٹے تک تاخیر ہوئی۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے پہلے متعلقہ ایئرلائن سے اپنی پرواز کے وقت اور موجودہ صورتحال کی تصدیق کرلیں۔