اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، دہشت گردی کے الزامات پر سخت جملوں کا تبادلہ
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق بحث کے دوران پاکستان اور بھارت کے مندوبین کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے۔
پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کی قانونی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مئی 2025 میں بھارت کی شکست کے بعد پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت مسلح گروہوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور انہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی خطرات کو ایک سنگین مسئلہ سمجھتا ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق، قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مغربی سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا ہدف ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے عناصر ہیں اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتیاط برتی جاتی ہے۔
بھارتی مندوب راگھو پوری نے پاکستانی الزامات مسترد کرتے ہوئے جوابی مؤقف اختیار کیا کہ سرحد پار دہشت گردی میں پاکستان ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا ملک قرار دیتا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول اس نے ایسے عناصر کو پیدا کیا جن پر بعد میں اس کا کنٹرول برقرار نہ رہ سکا۔
اس پر پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نئی دہلی طالبان حکومت کو مادی اور رسدی معاونت فراہم کررہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں حملے اور تباہی ہورہی ہے۔
جواد اجمل نے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی پاکستان میں گرفتاری کا حوالہ بھی دیا اور اسے بھارتی ریاستی دہشت گردی سے متعلق اپنے مؤقف کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے بیرون ملک سکھ رہنماؤں کے خلاف مبینہ منصوبہ بندی اور ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے بھی بھارتی حکومت پر الزامات عائد کیے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی سلامتی کا دفاع کرے گا۔
بھارتی مندوب نے دوبارہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کے بجائے بیانیہ سازی اور غلط معلومات پر توجہ دینے سے عالمی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔ اس پر جواد اجمل نے ردعمل میں کہا کہ بھارت کو دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے بھارت میں ہندوتوا نظریے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کو درپیش مسائل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ایسی پالیسیوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی قانونی کمیٹی میں ہونے والی اس بحث کے دوران پاکستان اور بھارت نے دہشت گردی، انسانی حقوق اور کشمیر کے معاملے پر ایک دوسرے کے مؤقف کو چیلنج کیا، تاہم دونوں جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے اس اجلاس کی فراہم کردہ رپورٹ میں کوئی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔