اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، سابق سفیر سردار مسعود خان کے مطابق اسلام آباد نے دونوں حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور امن عمل کو جاری رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
امریکا، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی نے اسے عالمی سفارت کاری میں ایک اہم مقام دلایا ہے اور مغربی ایشیا میں امن کے فروغ کیلئے اس کا کردار نمایاں ہوا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے تقریباً پانچ دہائیوں سے مخالفانہ تعلقات رکھنے والے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی۔ اس کے بعد پس پردہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کا مقصد کشیدگی ختم کرنا اور وسیع تر سیاسی تصفیے کیلئے منظم مذاکراتی عمل شروع کرنا تھا۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جامع جنگ بندی پر عمل درآمد، خصوصاً لبنان کی صورتحال سے متعلق اختلافات سامنے آئے تو پاکستان نے سفارتی عمل کو ناکام ہونے سے بچانے کیلئے دوبارہ کوششیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر ہنگامی مشاورت میں سہولت فراہم کی، جس سے مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
سابق سفیر کے مطابق آئندہ 60 روز مذاکراتی عمل کیلئے اہم ہوں گے۔ اس دوران ایران کے ساتھ جامع جوہری معاہدے، پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور دیگر تکنیکی معاملات پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔