تازہ ترین

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ، مشاورت کی کمی اور فنڈز پر اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے

0

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریاں تیز کردی ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے سرگرمیاں بھی جاری ہیں، تاہم مارچ سے قبل پارٹی کے اندر مشاورت، فیصلہ سازی، مالی وسائل اور کارکنوں کے اعتماد سے متعلق اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں پارٹی کی مرکزی قیادت اور بعض منتخب ارکان کے مؤقف میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مارچ کے مقصد پر کارکنان اور قیادت میں اصولی اختلاف نہیں، تاہم مارچ کے اعلان اور تیاریوں کے طریقہ کار پر کئی ارکان مطمئن نہیں۔ ان کے مطابق ضلعی قیادت اور منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ عملی طور پر کارکنوں کو متحرک کرنے اور انہیں احتجاج کے لیے منظم کرنے کی ذمہ داری انہی پر ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور منتخب ارکان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور جلسے اور بعد ازاں اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، لیکن اس حوالے سے پارٹی کے تمام متعلقہ حلقوں سے باقاعدہ مشاورت نہیں کی گئی۔

پشاور سے منتخب رکن خیبرپختونخوا اسمبلی فضل الٰہی نے بھی لانگ مارچ کے حوالے سے تاحال مکمل مشاورت نہ ہونے کی شکایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارٹی اہم فیصلوں سے قبل قیادت اور ارکان کی رائے لیا کرتی تھی، تاہم اب زیادہ تر فیصلے براہ راست احکامات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

فضل الٰہی کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی قیادت نے یک طرفہ طور پر فیصلہ سنایا، جبکہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ مختلف علاقوں سے کارکنوں کو کس طرح منظم کرکے اسلام آباد پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی احتجاج یا لانگ مارچ کی کامیابی کے لیے مشاورت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور جن لوگوں نے عملی طور پر کارکنوں کو سڑکوں پر لانا ہے، ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ اس وقت سہیل آفریدی اور جنید اکبر اہم فیصلے کررہے ہیں اور دیگر ارکان سے مطلوبہ مشاورت نہیں کی جارہی۔ ان کے مطابق پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور 27 ستمبر سے قبل ان تحفظات کو دور کرنا ضروری ہے۔

رکن اسمبلی نے شکوہ کیا کہ جب مالی وسائل درکار ہوتے ہیں تو ارکان سے رابطہ کیا جاتا ہے، لیکن فیصلے کرتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس کے لیے اچانک کارکنوں کو گھروں سے نکال کر اسلام آباد روانہ کردیا جائے، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور واضح حکمت عملی ضروری ہے۔

اخراجات اور چندے کا معاملہ بھی زیر بحث

لانگ مارچ کے مالی انتظامات بھی پارٹی کے اندر بحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پشاور میں تیاریوں کے حوالے سے ہونے والی تقریب میں کہا کہ مارچ کے لیے بڑی رقم درکار ہوگی اور منتخب نمائندوں و حامیوں کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہیے۔

جنید اکبر کے مطابق مارچ کے پہلے روز کے اخراجات تقریباً 45 کروڑ روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں سے 45 لاکھ روپے جمع کرنے کا ہدف بھی دیا گیا ہے، جس پر بعض ارکان کو تحفظات ہیں۔

پارٹی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر مالی معاملات اور مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص پر بدعنوانی کے الزامات ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں۔

فضل الٰہی نے بھی چندہ جمع کرنے کے موجودہ طریقہ کار پر اعتراض کیا۔ ان کے مطابق بہتر انتظام یہ ہوگا کہ ہر حلقے سے آنے والے کارکنوں کی آمدورفت، کھانے پینے اور دیگر بنیادی ضروریات کی ذمہ داری متعلقہ رکن اسمبلی کو دی جائے تاکہ انتظامات زیادہ مؤثر انداز میں کیے جاسکیں۔

کارکنوں کی مایوسی بھی بڑا چیلنج

پی ٹی آئی پشاور کے ایک ضلعی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ موجودہ صورتحال میں کارکنوں کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پشاور سے ہر مرتبہ بڑی تعداد میں کارکن احتجاج کے لیے نکلتے ہیں، لیکن کئی مواقع پر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

رہنما نے گزشتہ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں کارکن اسلام آباد پہنچے تھے، تاہم بعد کے حالات اور اندرونی اختلافات نے کارکنوں کو نقصان پہنچایا۔

ان کے مطابق کئی کارکن گرفتار ہوئے، کچھ طویل عرصے تک جیلوں میں رہے اور بعض کو اپنے قانونی معاملات بھی ذاتی وسائل سے نمٹانے پڑے۔

ایسے ہی ایک کارکن نے بتایا کہ وہ کئی ماہ تک جیل میں رہے، اپنے خرچے پر وکیل کیا اور ضمانت بھی خود کروائی۔ ان کا شکوہ تھا کہ پارٹی کی جانب سے عملی مدد کے بجائے صرف یقین دہانیاں ملتی رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رہائی کے بعد ان کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں علی امین گنڈاپور سے ملاقات بھی ہوئی تھی، جہاں مالی امداد اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن بعد میں ان وعدوں پر عمل نہیں ہوسکا۔

کارکن کے مطابق پرانے اور ناراض کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے مؤثر رابطہ نہیں کیا جارہا۔

خیبرپختونخوا پر احتجاج کا زیادہ بوجھ؟

پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض رہنما پنجاب اور دیگر صوبوں سے کارکنوں کی کم شرکت پر بھی تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔

ایک صوبائی رہنما کے مطابق ماضی کے احتجاجوں میں خیبرپختونخوا کے کارکنوں نے زیادہ بوجھ اٹھایا، جبکہ پنجاب اور سندھ سے نہ صرف کارکنوں بلکہ بعض رہنماؤں کی شرکت بھی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے کارکن سخت حالات میں بھی اسلام آباد اور لاہور تک پہنچتے رہے، اس لیے آئندہ لانگ مارچ کے لیے بھی صرف ایک صوبے پر انحصار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

رہنما نے خبردار کیا کہ موجودہ مایوسی اور اندرونی اختلافات کے باعث 27 ستمبر کو بڑی تعداد میں کارکنوں کو سڑکوں پر لانا آسان نہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی قیادت نے اختلافات مسترد کردیے

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات شفیع جان نے پارٹی کے اندر اختلافات کے تاثر کو مسترد کردیا۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود اسلام آباد مارچ کی عوامی رابطہ مہم کی قیادت کررہے ہیں اور مختلف اضلاع کے دوروں کے بعد سندھ میں بھی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی دیگر صوبوں کا بھی دورہ کریں گے اور کارکنوں کو مارچ کے لیے متحرک کریں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ قیادت سے لے کر نچلی سطح تک تمام کارکن تیار ہیں اور 27 ستمبر کو ہر صورت اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پنجاب سے کارکنوں کی کم تعداد میں شرکت کے تاثر پر کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے حالات مختلف ہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے، جبکہ پنجاب میں سیاسی مخالفین اقتدار میں ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو ریاستی مشینری کے ذریعے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور ان کے خلاف مقدمات بھی قائم کیے جاتے ہیں۔

تاہم شیخ وقاص اکرم نے اس بات کو مسترد کیا کہ پنجاب سے کارکن احتجاج کے لیے نکلتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن نکلتے ہیں، البتہ ان کی تعداد خیبرپختونخوا کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں کارکن سڑکوں پر آئیں گے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

یوں 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے سامنے ایک طرف کارکنوں کو متحرک کرنے اور ملک گیر احتجاج منظم کرنے کا چیلنج ہے تو دوسری جانب پارٹی کے اندر موجود مشاورت، مالی وسائل اور سابق احتجاجوں سے پیدا ہونے والی ناراضی جیسے معاملات بھی قیادت کے لیے اہم آزمائش بن گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.