تازہ ترین

چینی بلی بلی کی عالمی انٹری، یوٹیوب کو بڑا چیلنج

0

چین کا مقبول ویڈیو پلیٹ فارم بلی بلی عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر متحرک ہوگیا ہے، نئی بین الاقوامی ایپ کے ری لانچ، آسان رجسٹریشن اور عالمی تخلیق کاروں کو راغب کرنے کی کوششوں نے اسے یوٹیوب کے لیے ایک ممکنہ نئے حریف کے طور پر نمایاں کردیا ہے۔

بلی بلی نے 19 اگست کو اپنی بین الاقوامی اینڈرائیڈ ایپ دوبارہ لانچ کی، جس کے ذریعے چین سے باہر صارفین کو اس کے وسیع ویڈیو مواد تک رسائی دی جارہی ہے۔ آئی او ایس ورژن بھی متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ کمپنی انگریزی زبان کی ویب سائٹ پر بھی کام کر رہی ہے۔

عالمی صارفین اور تخلیق کاروں کے لیے ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ بین الاقوامی ورژن میں رجسٹریشن کے دوران پہلے عائد شناختی دستاویزات کی شرط ختم کردی گئی ہے، جس سے بیرونِ چین صارفین کے لیے پلیٹ فارم پر سائن اپ اور مواد اپ لوڈ کرنا آسان ہوگیا ہے۔

بلی بلی عالمی سطح پر تخلیق کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی سرگرم ہے۔ کمپنی امریکا، برطانیہ، میکسیکو، برازیل، ترکیہ اور جاپان سمیت مختلف مارکیٹوں میں ٹیمیں تشکیل دے رہی ہے، جبکہ عالمی تخلیق کاروں کے لیے برانڈ اسپانسرشپ سے متعلق ایک مارکیٹ پلیس بھی تیار کی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بلی بلی کے معاوضے سے متعلق یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ تخلیق کاروں کو ہر ایک ہزار ویوز پر تقریباً 0.70 ڈالر تک مل سکتے ہیں۔ تاہم بلی بلی نے فی ایک ہزار ویوز 0.70 ڈالر کی کوئی مقررہ عالمی شرح باضابطہ طور پر جاری نہیں کی۔ اصل آمدنی ناظرین کے ملک، اشتہارات کی طلب، مواد کی کیٹیگری اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔

بلی بلی کا عالمی قدم اس لیے بھی اہم ہے کہ پلیٹ فارم چین میں پہلے ہی بہت بڑا صارف نیٹ ورک رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 376 ملین تک پہنچ چکی تھی۔

یہ پلیٹ فارم 2009 میں شنگھائی میں قائم ہوا تھا اور ابتدا میں اینی میشن، کامکس اور گیمنگ سے متعلق مواد کے باعث مقبول ہوا۔ وقت کے ساتھ اس نے ٹیکنالوجی، تعلیم، طرز زندگی اور دیگر شعبوں کے مواد کو بھی اپنے پلیٹ فارم کا حصہ بنا لیا۔

بلی بلی اپنی عالمی توسیع کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کی نگرانی اور ماڈریشن نظام بھی تیار کررہا ہے۔ کمپنی کے عالمی منصوبے میں مختلف ممالک میں کمیونٹی ٹیمیں قائم کرنا اور غیر چینی تخلیق کاروں کو پلیٹ فارم سے جوڑنا بھی شامل ہے۔

اگرچہ بلی بلی کی عالمی پیش قدمی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم آسان رجسٹریشن، وسیع ویڈیو لائبریری، عالمی ٹیموں کی تشکیل اور تخلیق کاروں کے لیے نئی آمدنی کے مواقع اسے یوٹیوب کے مقابلے میں ایک قابلِ توجہ پلیٹ فارم بنا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.