تازہ ترین

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیرحاضری پر سوالات

0

تہران-Mojtaba Khamenei Iranایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جنگ کے آغاز کے چھ ماہ بعد بھی منظر عام سے غیرحاضری نے ان کی صحت، موجودگی اور فیصلہ سازی میں کردار سے متعلق سوالات کو جنم دے دیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باوجود بدستور ملکی قیادت پر مکمل گرفت رکھتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اب تک کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری نہیں کیا۔ ان کے نام سے سامنے آنے والے پیغامات صرف تحریری بیانات کی صورت میں ہیں، جنہیں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پڑھ کر سناتے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر ایک محفوظ مقام سے حکومتی امور چلا رہے ہیں اور سنگین زخموں سے صحتیاب ہو رہے ہیں۔

ایران کے سینئر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اہم حکام سے ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اہم رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں اور بڑے فیصلوں میں ان کا کردار برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق حتمی اختیار بھی بدستور سپریم لیڈر کے پاس ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ انہوں نے 10 اگست کو مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ سات گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔

تاہم ایران کے حکومتی نظام کے حامی حلقوں میں بھی ان کی طویل غیرحاضری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک بسیج رکن کا کہنا تھا کہ عوام کو مجتبیٰ خامنہ ای کی آواز سننے یا ان کی موجودگی کا کوئی ثبوت دیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ اصلاح پسند حلقوں کی جانب سے بھی ان کی عوامی سطح پر عدم موجودگی پر مزید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اپنے طاقتور مخالفین کے ساتھ جنگ کا سامنا کیا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر نقصان بھی اٹھانا پڑا، تاہم ملک کا سیاسی نظام بدستور قائم ہے۔ ایران اپنے سابق سپریم لیڈر اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو کھونے کے باوجود خطے میں توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

جنگ نے پہلے ہی کمزور ایرانی معیشت اور کرنسی پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تیل کی برآمدات پر پابندیوں نے ایرانی ریال کو متاثر کیا ہے جبکہ معاشی خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی حکام کی توجہ اس وقت ریاستی نظام کو برقرار رکھنے، اپنی دفاعی صلاحیت بحال کرنے اور مزید معاشی نقصان کو محدود کرنے پر مرکوز ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کا اثر و رسوخ بھی بڑھا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب بدستور ملک کے اسٹریٹجک فیصلہ سازی کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیرحاضری مستقبل کے اہم فیصلوں، خصوصاً جنگ اور مذاکرات سے متعلق معاملات میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.