ایران میں جنگ کے معاشی اثرات، 20 ہزار مزدور بے روزگار
تہران- امریکا اور ایران کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی نے ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جہاں بندرگاہی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور کاروباری مشکلات کے باعث ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ جنوبی صوبے ہرمزگان میں تقریباً 20 ہزار مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ کے معاشی اثرات اب ایران کے مختلف شعبوں میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر بندرگاہی اور شپنگ سرگرمیوں میں رکاوٹ نے کاروباری اداروں کو اپنے اخراجات کم کرنے اور ملازمین کی تعداد گھٹانے پر مجبور کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں تقریباً 20 ہزار مزدور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاروباری مشکلات کے باعث بے روزگار ہوئے ہیں۔ متعدد کمپنیوں نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کے اوقات اور دنوں میں بھی نمایاں کمی کردی ہے۔
صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ بعض کمپنیوں نے ملازمین کے کام کے دن کم کرکے ماہانہ صرف 10 دن تک محدود کردیئے ہیں۔ اس اقدام سے مزدوروں کی آمدنی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ان کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔
رجائی بندرگاہ کے اطراف بھی مختلف اداروں کی جانب سے عملے میں کمی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بندرگاہی سرگرمیوں میں کمی کے باعث ان شعبوں سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بندرگاہوں کی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
بندر عباس میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل بھی جنگ کے معاشی اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ رپورٹ کے مطابق ہوٹل تقریباً چار ماہ تک بند رہنے کے بعد اپنے تمام ملازمین کو فارغ کرچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق بندرگاہی سرگرمیوں میں کمی کا اثر صرف شپنگ سیکٹر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، تجارت، خدمات اور دیگر متعلقہ شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے روزگار کے مزید مواقع ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں شپنگ سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس کے ذریعے تیل سمیت مختلف مصنوعات کی عالمی تجارت ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے ایران کی بندرگاہی سرگرمیوں اور کاروباری معاملات پر مزید دباؤ پڑا ہے، جبکہ اس صورتحال نے پہلے سے مشکلات کا شکار ایرانی معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔
چھ ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں ایران کو جہاں بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، وہیں روزگار کا بحران بھی شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہرمزگان میں 20 ہزار مزدوروں کا بے روزگار ہونا اسی معاشی دباؤ کی ایک نمایاں مثال ہے۔
اگر بندرگاہی سرگرمیوں اور علاقائی شپنگ میں بہتری نہ آئی تو روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر مزید منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔