تازہ ترین

اقوام متحدہ اجلاس، وزیراعظم نے غیر ضروری سرکاری وفد محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کو مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور بیرونِ ملک سرکاری دوروں کے دوران وفود کا حجم محدود رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیویارک جانے والے وفد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور خارجہ امور کے معاون طارق فاطمی شامل ہوں گے، جبکہ ابتدائی طور پر مجوزہ وفد میں شامل بعض وفاقی وزرا کے نام خارج کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، وزیر منصوبہ بندی اور بعض دیگر حکام کو وفد سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے 17 ستمبر کو جاری بریفنگ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے ساتھ اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور سینئر حکام بھی ہوں گے، اس لیے حتمی وفد کی سرکاری فہرست میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے اس وقت بیرون ملک دورے پر ہیں۔ وہ 17 ستمبر کو لندن پہنچے تھے اور وہاں مختصر قیام کے بعد نیویارک روانہ ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

وزیراعظم اپنے خطاب میں پاکستان کا عالمی اور علاقائی صورتحال پر مؤقف پیش کریں گے اور مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت اجاگر کریں گے۔ فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اسلاموفوبیا، پائیدار ترقی، عالمی معاشی مسائل، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کے مسائل بھی پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔

وزیراعظم کے دورے کے دوران عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں مشرق وسطیٰ، امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، افغانستان، بھارت اور کشمیر، فلسطین، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات، دہشت گردی اور معاشی تعاون اہم سفارتی موضوعات میں شامل ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا مرکزی موضوع اعتماد کی بحالی اور تبدیلی کے انتظام کے ساتھ ایسی اقوام متحدہ کی تشکیل ہے جو سب کے لیے مؤثر ثابت ہو۔ جنرل مباحثے کا آغاز 22 ستمبر سے ہوگا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کریں گے۔

وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سفارت کاری میں اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ پاکستان نے علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے اور وزیراعظم کے جنرل اسمبلی خطاب میں بھی اسی مؤقف کو اجاگر کیے جانے کی توقع ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.