حکومت نے رواں مالی سال کے دوران بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز جاری کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی منڈی میں بانڈز کے اجرا کے ساتھ ساتھ چینی مارکیٹ سے بھی فنڈز حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے باعث مجموعی بیرونی فنانسنگ کے لیے تقریباً دو ارب ڈالر تک کے بانڈز جاری کرنے کی حکمت عملی زیر غور ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز ایک ہی مرحلے میں جاری کرنے کے بجائے مختلف اقساط میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کو دو یا تین اقساط میں جاری کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ عالمی مارکیٹ کے حالات، سرمایہ کاروں کے رجحان اور ملکی فنانسنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت یورو بانڈز کے علاوہ چینی مارکیٹ سے بھی مالی وسائل حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس سلسلے میں تقریباً 75 کروڑ ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو حکومت کو عالمی مالیاتی منڈی کے ساتھ ساتھ چینی کیپٹل مارکیٹ سے بھی وسائل حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
مجموعی طور پر رواں مالی سال کے دوران عالمی مارکیٹ میں تقریباً دو ارب ڈالر تک کے مختلف بانڈز جاری کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے۔ حکام کے مطابق بانڈز کے اجرا سے متعلق حتمی فیصلہ عالمی مالیاتی حالات، بین الاقوامی مارکیٹ میں دستیاب مواقع، سرمایہ کاروں کے ردعمل اور پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت آئندہ تین سال کے دوران مزید یورو بانڈز جاری کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھا جائے گا۔ حکومت بیرونی قرضوں کی ضروریات اور ملکی مالی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے گی، جس کے بعد ضرورت کے مطابق مستقبل میں مزید بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ گزشتہ مالی سال کی طرح اس مرتبہ بھی یورو بانڈز نسبتاً کم شرح منافع پر جاری کیے جائیں۔ حکام کی خواہش ہے کہ بانڈز پر شرح منافع 7 فیصد سے کم رکھی جائے، تاہم اس کا حتمی انحصار عالمی سرمایہ مارکیٹ کے حالات، پاکستان کی کریڈٹ پوزیشن اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ردعمل پر ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور ملکی معیشت میں استحکام عالمی مارکیٹ سے مالی وسائل حاصل کرنے کے عمل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر عالمی مالیاتی ماحول سازگار رہا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا تو حکومت کو مطلوبہ فنڈز نسبتاً بہتر شرائط پر حاصل ہونے کی امید ہے۔
یورو بانڈز اور دیگر عالمی بانڈز کے اجرا سے حکومت کو بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے اور زرمبادلہ کے وسائل میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس عمل کے ساتھ مستقبل میں قرضوں کی واپسی، شرح منافع اور مجموعی مالی بوجھ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔