تازہ ترین

ایران کا امریکا سے سفارتی رابطے بحال کرنے پر آمادگی کا عندیہ

0

تہران-ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے بحال کرنا اب بھی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے واشنگٹن کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے تہران میں ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تعمیری اور نئے امکانات پر مبنی بات چیت ہوئی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستے تلاش کرنے پر توجہ دی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اگر امریکا اپنا موجودہ طرزِ عمل تبدیل کرتا ہے تو سفارت کاری دوبارہ درست سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دباؤ کی پالیسی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتی اور واشنگٹن کو دوبارہ رابطے کی کوشش سے قبل اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔

عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے چند شرائط بھی بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کا احترام کرنا اور اس کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا، جبکہ واشنگٹن کو اپنے وعدوں کی پاسداری بھی کرنا ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں کسی بھی مذاکرات کی بنیاد باہمی احترام پر ہونی چاہیے۔

قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کا تہران کا دورہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد ایران کا پہلا دورہ تھا۔ قطری وفد نے اپنے دورے کے دوران ایرانی قیادت کے متعدد اہم عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

قطری وفد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرات کم کرنے کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک عارضی مشترکہ بحری گزرگاہ قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ اہم آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ براہِ راست رابطے کے امکانات اور اس کے لیے درکار شرائط پر بات چیت جاری ہے، جبکہ قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.