خواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدی
کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے یو این ویمن کے نمائندوں داؤد ننگیال اور سائرہ لہڑی نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، ترقی، معاشی خودمختاری اور بااختیاری کے لیے جاری اقدامات سمیت مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران خواتین کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ تعلیم، صحت، ہنرمندی، روزگار اور معاشی مواقع کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان حکومت خواتین کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا، اسی لیے حکومت خواتین کو ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی صحت، خصوصاً زچہ و بچہ کی صحت، بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بنیادی صحت کی سہولیات تک خواتین کی بہتر رسائی کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتی اداروں، عالمی ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یو این ویمن کے ساتھ اشتراک کو مزید وسعت دے کر خواتین کی ترقی سے متعلق منصوبوں کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جاسکتا ہے۔
یو این ویمن کے نمائندوں نے خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے بلوچستان حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون اور اشتراک مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں خواتین کی معاشی خودمختاری، صنفی مساوات، تحفظ، صحت، تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔