تازہ ترین

تحفظات دور ہونے تک حکومتی قانون سازی میں ساتھ نہیں دیں گے، نوید قمر

0

اسلام آباد: حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے، پیپلزپارٹی نے اپنے تحفظات دور ہونے تک حکومتی قانون سازی میں تعاون روکنے کا فیصلہ کرلیا۔ پارٹی رہنما سید نوید قمر نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات، ججز کی تعیناتی اور دیگر معاملات پر حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث اب حکومتی قانون سازی کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوید قمر نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت کی مکمل اتحادی نہیں، تاہم وہ اب تک حکومت کا ساتھ دیتی رہی ہے، لیکن اس تعاون کو مستقل اور بلاشرط نہیں سمجھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں دونوں جانب سے کوشش ضروری ہوتی ہے، ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو تحفظات ہوں اور انہیں دور نہ کیا جائے تو مسئلہ برقرار رہتا ہے۔

نوید قمر کے مطابق پیپلزپارٹی نے حکومت کو اپنے بعض تحفظات سے آگاہ کیا تھا، جن میں آزاد کشمیر کے انتخابات، ججز کی تعیناتی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ حکومت نے شکایات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی تو کرائی، تاہم اب تک ان معاملات پر کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک حکومت کی جانب سے ان شکایات کے حل کی طرف پیش رفت نہیں ہوتی، پیپلزپارٹی حکومتی قانون سازی میں تعاون نہیں کرے گی۔

پیپلزپارٹی کے اس فیصلے سے حکومت کے لیے پارلیمان میں قانون سازی کا عمل مشکل ہوسکتا ہے، بالخصوص ان بلوں کے معاملے میں جہاں حکمران جماعت کو پیپلزپارٹی کے ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک عمومی قانون سازی میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا جائے گا۔

پارلیمانی کارروائی کے حوالے سے نوید قمر نے کہا کہ ایک روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں ایک بل کو زبردستی منظور کرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو اسلام آباد بلدیاتی بل کی حمایت کسی صورت نہیں کرنی چاہیے اور پارٹی نے اس بل پر اختلافی نوٹ بھی جمع کرایا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پیپلزپارٹی کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے حوالے سے سوال پر نوید قمر نے کہا کہ وہ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ وزیر قانون کہاں سرگرم ہیں۔

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان حالیہ اختلافات کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے طریقہ کار اور ججز کی تعیناتی کے معاملات نے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھائے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق اس کے تحفظات الیکشن کمیشن، پارلیمان اور دیگر آئینی فورمز پر اٹھائے گئے، لیکن انہیں مناسب طریقے سے حل نہیں کیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران سیاسی اور انتظامی مشینری استعمال کی گئی اور وفاقی حکومت کی تشکیل سے قبل پیپلزپارٹی سے کیے گئے بعض وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

اسی دوران آزاد کشمیر پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی مسلم لیگ (ن) پر سیاسی مفادات کو ریاستی مفادات پر ترجیح دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کرنے اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں سیاسی میدان فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

راٹھور نے کہا تھا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی بے چینی کو صرف علاقائی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ خطے کا استحکام پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی معاملات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

پیپلزپارٹی اور حکومت کے درمیان بڑھتے اختلافات نے ایک مرتبہ پھر حکومتی اتحاد کی سیاسی ہم آہنگی پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں، جبکہ قانون سازی میں پیپلزپارٹی کے تعاون کا مستقبل اب حکومت کی جانب سے اس کے تحفظات دور کرنے سے جڑ گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.