ایران کی جوہری تنصیبات پر ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی، اہم علاقے کو نشانہ بنانے کا عندیہ
واشنگٹن: ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دے دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا بہت جلد ایران کے ایک اہم پہاڑی علاقے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو نطنز کی یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔
امریکی صدر کے مطابق مذکورہ علاقے میں انتہائی محفوظ سرنگوں کا کمپلیکس موجود ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکا کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کا دورہ کریں گے اور جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت اب ماضی جیسی نہیں رہی اور اس کے متبادل راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام سے پائپ لائنز اور سڑکوں کے ذریعے متبادل راستے بننے کی صورت میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید کم ہوسکتی ہے۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ٹرمپ نے کہا کہ بعض لوگ اسے جنگ قرار دیتے ہیں، تاہم وہ اسے فوجی تنازع سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ موجود تنازع اتنا بڑا معاملہ نہیں جتنا بعض حلقوں کی جانب سے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ امریکی اقدامات کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔