تازہ ترین

فلسطینیوں کی جبری بے دخلی قبول نہیں، امریکا کا واضح مؤقف

0

واشنگٹن: امریکا نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کی اسرائیلی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی، اخراج یا لازمی منتقلی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ سے کسی بھی قسم کی نقل مکانی صرف رضاکارانہ بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن کی توجہ غزہ کو غیر مسلح کرنے، وہاں استحکام پیدا کرنے اور علاقے کی تعمیرِ نو پر مرکوز ہے، تاکہ غزہ کے رہائشیوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جاسکے۔ امریکا نے اپنے مؤقف کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی فلسطینی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ رضاکارانہ طور پر جائیں گے انہیں واپس آنے کی آزادی ہوگی۔

یہ امریکی مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کے بحران کے حل کے لیے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو سمندر، فضاء یا کسی بھی ذریعے سے غزہ سے نکالنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر اتمار بن گویر نے بھی فلسطینیوں کو غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اب امن کے بجائے نقل مکانی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان بیانات کے بعد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی اقدام میں فلسطینیوں کی مرضی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے اور واشنگٹن جبری منتقلی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.