تازہ ترین

دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، عطا اللہ تارڑ

0

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔

پاکستان کی بدلتی ہوئی انسدادِ دہشت گردی کی صورتحال اور علاقائی امن و سلامتی سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول میں رہا ہے۔

ان کے مطابق اس جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے، جبکہ ملکی معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے والے پاکستانیوں کی خدمات ملک کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے اہم ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا ذکر

وفاقی وزیر اطلاعات نے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عمل میں کردار ادا کیا، جسے عالمی برادری کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان علاقائی استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، بالخصوص افغانستان میں امن و استحکام خطے کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق ایک پُرامن افغانستان سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری، تعاون اور علاقائی رابطوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

افغانستان کے معاملے پر پاکستان کی کوششیں

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے مختلف مقامات پر ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جن میں نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیر نے بھی کردار ادا کیا۔ ان کوششوں کا مقصد عبوری افغان حکومت کو امن اور خوشحالی، بالخصوص افغان عوام کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرنا تھا۔

تاہم، عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان کوششوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور اس کی بھاری قیمت ادا کی، لیکن ان کے بقول پاکستان کی مہمان نوازی اور فراخ دلی کا جواب اسی جذبے سے نہیں دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.