سعودی عرب کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد فلائٹ آپریشن معطل
ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مزید حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے بعد ایک مسافر ہال میں آگ لگنے اور فضائی دفاعی نظام کی جانب سے کروز میزائل ناکارہ بنانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے ہوائی اڈے کے مسافر ہال نمبر 4 کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ترجمان نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔
اطلاعات کے مطابق، شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق جاں بحق افراد میں چار سعودی اور دو بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں، جبکہ دیگر کا تعلق امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے بتایا گیا ہے۔
حملے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔ حفاظتی اقدامات کے تحت ایئرپورٹ رات 9 بجے تک بند رکھنے اور نوٹم جاری کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ حملے سے املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد 2015 میں اس وقت تشکیل دیا گیا تھا جب عرب ممالک نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی تھی۔