پشاور-وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو لانگ مارچ سے قبل بات کرلے۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مذاکرات کے لیے کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کی نئی تاریخ تک ابھی وقت موجود ہے، اس دوران حکومت بات چیت کرنا چاہے تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف اداروں سے رجوع کررہے ہیں، تاہم ان کے مطابق ان کی بات نہیں سنی گئی، جس کے بعد احتجاج کی کال دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکمران ان کی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرنی ہے تو اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور بات چیت کا عمل فوری شروع کیا جاسکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ملک میں ایک فرد کی پالیسی چل رہی ہے اور اس کے نمائندے کے طور پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام لیا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 25 ستمبر کو اپنا اسلام آباد لانگ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، 4 اکتوبر تک ملتوی کردیا ہے۔