اسلام آباد: ملک میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے اور آئندہ دنوں میں ممکنہ طلب کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ گندم کی درآمد کے طریقہ کار، سرکاری سطح پر امپورٹ یا نجی شعبے کو اجازت دینے سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا، جس کے بعد درآمدی عمل شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے بتایا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے، تاہم یہ فیصلہ ابھی طے ہونا باقی ہے کہ گندم کی درآمد سرکاری شعبے کے ذریعے کی جائے گی یا پرائیویٹ سیکٹر کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم کی درآمد کے طریقہ کار، ضرورت اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ گندم کی امپورٹ سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے گندم کی دستیابی اور صوبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے درآمدی پالیسی طے کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ صوبوں کی جانب سے بھی گندم کی ضروریات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے۔ پنجاب نے 8 لاکھ ٹن، سندھ نے 7 لاکھ ٹن جبکہ خیبرپختونخوا نے 5 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
صوبوں کی جانب سے سامنے آنے والی مجموعی طلب 20 لاکھ ٹن بنتی ہے، جو وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کی گئی ابتدائی 10 لاکھ ٹن درآمد سے دوگنا ہے۔ اس صورتحال میں آئندہ ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وزیراعظم کی سطح پر ہونے والے فیصلے کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق گندم کی درآمد کا مقصد مارکیٹ میں طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنا اور مستقبل میں گندم کی دستیابی کے حوالے سے کسی ممکنہ بحران سے بچاؤ ہے۔ تاہم درآمدی گندم کی خریداری اور اس کی تقسیم کا حتمی طریقہ کار اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد واضح ہوگا۔
گندم درآمد کرنے کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبوں نے اپنی ضروریات سے متعلق وفاق کو تفصیلات فراہم کردی ہیں۔ اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ منظور شدہ گندم سرکاری اداروں کے ذریعے درآمد کی جائے یا نجی شعبے کو امپورٹ کی اجازت دے کر مارکیٹ کی طلب پوری کی جائے۔
آئندہ ہفتے ہونے والے فیصلے کے بعد گندم کی درآمد کی مقدار، طریقہ کار اور نجی و سرکاری شعبے کے کردار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔